ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دھنی پور کی مسجد شرعی قانون اوروقف ایکٹ کے خلاف:مسلم پرسنل لاء بورڈ

دھنی پور کی مسجد شرعی قانون اوروقف ایکٹ کے خلاف:مسلم پرسنل لاء بورڈ

Thu, 24 Dec 2020 12:22:15    S.O. News Service

لکھنؤ،24؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ(اے آئی ایم پی ایل بی) کے سکریٹری اورترجمان ظفریاب جیلانی نے بدھ کے روزکہاہے کہ ایودھیا میں مجوزہ مسجد وقف ایکٹ کے خلاف اورشرعی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔

ایودھیا میں مسجد کی تعمیرکے لیے قائم ٹرسٹ کے سکریٹری اطہر حسین نے تاہم کہاہے کہ ہر کوئی اپنے طریق سے شریعت کی ترجمانی کرتا ہے اور یہ غیر قانونی نہیں ہوسکتاجب سپریم کورٹ کی ہدایت کے تحت اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ہفتہ کے روز ایودھیاکے گاؤں دھنی پورمیں پانچ ایکڑاراضی پر تعمیر ہونے والی اس مسجد کا حتمی خاکہ جاری ہوا،لیکن مسلمانوں کاسواداعظم اس میں دل چسپی نہیں لے رہاہے۔ظفریاب جیلانی نے کہاہے کہ وقف ایکٹ کے تحت ،مسجدیامسجدکی اراضی کسی اور چیز کے بدلے نہیںلی جاسکتی ہے۔ایودھیا میں مجوزہ مسجد اس قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس سے شرعی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے کیونکہ وقف ایکٹ شریعت پر مبنی ہے۔ جیلانی بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینربھی ہیں۔

اے ایم پی ایل بی کے ایک اور ایگزیکٹو ممبر ، ایس قاسم رسول الیاس نے کہاہے کہ ہم نے مسجدکے لیے کسی بھی دوسری جگہ اراضی کی پیش کش کو مسترد کردیا۔ ہم نے ملکیت کامقدمہ کھو دیا ہے اور اس وجہ سے ہمیں مسجدکے لیے زمین کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایاہے کہ سنی سنٹرل وقف بورڈ حکومت کے دباؤمیں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تاہم مسلمانوں نے دھنی پور میں دی گئی اس زمین کوبطورمعاوضہ مسترد کردیا ہے۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ کے ذریعہ قائم کردہ ٹرسٹ کے ذریعہ بنائی جانے والی یہ مسجد محض علامتی ہے۔


Share: